سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امام کے پیچھے قرات کا حکم۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور صورت کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔
لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس لئے صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔
اور دوسری سورت کا پڑھنا مستحب ہے۔
واجب (فرض)
نہیں۔ (إنجاز الحاجة)
فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور صورت کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔
لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس لئے صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔
اور دوسری سورت کا پڑھنا مستحب ہے۔
واجب (فرض)
نہیں۔ (إنجاز الحاجة)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 839 سے ماخوذ ہے۔