سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، مِثْلَهُ قَالَ : فَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے ، اس میں ہے کہ` براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، نبی اکرم ﷺ تمام کمالات اور صفات انسانی اور جمال ظاہری اور باطنی کے مجموعہ تھے، حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں بے نظیر تھے، اور حسن خلق ان سب پر طرہ تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 835]
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 835]
اردو حاشہ:
فائده:
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے۔
کہ بہترین انداز سے اور خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کی جائے۔
لیکن گانے موسیقی کا انداز اختیار کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے-
فائده:
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے۔
کہ بہترین انداز سے اور خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کی جائے۔
لیکن گانے موسیقی کا انداز اختیار کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے-
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 835 سے ماخوذ ہے۔