سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: ظہر اور عصر کی قرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ بَدْرِيًّا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : تَعَالَوْا حَتَّى نَقِيسَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِيهِ مِنَ الصَّلَاةِ ، فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ ، فَقَاسُوا قِرَاءَتَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ بِقَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَقَاسُوا ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں ، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا ، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا ، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر ، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایک آدھ آیت کو اس طرح پڑھنا کہ پیچھے والے سن لیں درست ہے، سری و جہری میں فرق یہی ہے کہ سری میں اتنا آہستہ پڑھنا کہ خود سنے اور پاس والا بھی، اور جہری کہتے ہیں کہ خود بھی سنے اور دوسرے بھی سنیں، سنت کی پیروی میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت سنانا درست ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ظہر اور عصر کی قرات کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 828]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 828]
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ بالا روایات سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معناً صحیح ہے کہ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
انھوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیات کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا فرمایا۔
اس (تیس)
سے نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی دو رکعتوں میں اس سے نصف۔
دیکھئے۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ فی الظھر والعصر، حدیث 452)
فائده:
مذکورہ بالا روایات سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معناً صحیح ہے کہ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
انھوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیات کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا فرمایا۔
اس (تیس)
سے نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی دو رکعتوں میں اس سے نصف۔
دیکھئے۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ فی الظھر والعصر، حدیث 452)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 828 سے ماخوذ ہے۔