حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا مِنْهُ ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، فَقَالَ : " أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَمَعَ عُمَرَ ، وَمَعَ عُثْمَانَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلًا مِنْهُمْ يَقُولُهُ ، فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ` میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو ، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا : بیٹے ! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا ، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (244), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 66 ( 244 ) ، سنن النسائی/الافتتاح 22 ( 909 ) ، ( تحفة الأشراف : 9667 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/85 ، 5/54 ، 55 ) ( ضعیف ) » ( سند میں یزید بن عبد اللہ بن مغفل مجہول الحال ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 909

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 909 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» ‏‏‏‏ زور سے نہ پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ جب ہم میں سے کسی سے «‏بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «‏بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے نہیں سنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 909]
909۔ اردو حاشیہ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہ پڑھنے سے مراد، اونچی آواز سے نہ پڑھنا ہے اور روایات زیادہ اور اصح ہیں، لہٰذا معمول آہستہ پڑھنے ہی کا ہونا چاہیے کیونکہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم علم وقفہ میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر تھے، خصوصاً ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما، البتہ اونچی آواز سے بھی کبھی کبھار پڑھنا جائز ہے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 909 سے ماخوذ ہے۔