سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ باب: نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 812]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 812]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ سے قراءت شروع کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ قراءت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے۔
اس کے بعد کوئی دوسری صورت یا آیات تلاوت کرتے تھے۔
اس صورت میں (بسم اللہ)
بھی اونچی آواز میں پڑھنا ثابت ہوگا۔
کیونکہ وہ سورت فاتحہ کے ساتھ ہی شامل ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ (بسم اللہ)
کی آیت جہر سے نہیں پڑھتے تھے۔
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ﴾ سے شروع کرتے تھے۔
صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین سے دونوں طرح کی روایات آئی ہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (بسم اللہ)
جہر سے پڑھنے کے قائلین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسمائے گرامی ذکر کیے ہیں اور (بسم اللہ)
آہستہ پڑھنے والوں میں خلفاء اربعہ کے اسمائے گرامی بیان کیے ہیں۔
دیکھئے: (جامع ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی الترک الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، حدیث: 244 وباب من رائ الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، حدیث: 245)
فوائد و مسائل:
(1)
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ سے قراءت شروع کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ قراءت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے۔
اس کے بعد کوئی دوسری صورت یا آیات تلاوت کرتے تھے۔
اس صورت میں (بسم اللہ)
بھی اونچی آواز میں پڑھنا ثابت ہوگا۔
کیونکہ وہ سورت فاتحہ کے ساتھ ہی شامل ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ (بسم اللہ)
کی آیت جہر سے نہیں پڑھتے تھے۔
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ﴾ سے شروع کرتے تھے۔
صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین سے دونوں طرح کی روایات آئی ہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (بسم اللہ)
جہر سے پڑھنے کے قائلین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسمائے گرامی ذکر کیے ہیں اور (بسم اللہ)
آہستہ پڑھنے والوں میں خلفاء اربعہ کے اسمائے گرامی بیان کیے ہیں۔
دیکھئے: (جامع ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی الترک الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، حدیث: 244 وباب من رائ الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، حدیث: 245)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 812 سے ماخوذ ہے۔