سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ باب: مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ سورة التوبة آية 18 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو “ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» ” اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں “ ( سورة التوبة : ۱۸ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2617 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ” اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں “ (سورۃ التوبہ: ۱۸)۔“ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2617]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ” اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں “ (سورۃ التوبہ: ۱۸)۔“ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2617]
اردو حاشہ: 1؎: اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابند ی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سواکسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ً ہدایت یافتہ ہیں۔
(سورۃ توبہ: 18) نوٹ:
(سندمیں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)
(سورۃ توبہ: 18) نوٹ:
(سندمیں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2617 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3093 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے (یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو “، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر» ” اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں “ (التوبہ: ۱۸)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3093]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے (یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو “، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر» ” اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں “ (التوبہ: ۱۸)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3093]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں (التوبة: 18)
وضاحت:
1؎:
اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں (التوبة: 18)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3093 سے ماخوذ ہے۔