حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ ، وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ ، يَقُولُ : " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، کچھ لوگ واپس چلے گئے ، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے ، آپ کا سانس پھول رہا تھا ، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! یہ تمہارا رب ہے ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے : فرشتو ! میرے بندوں کو دیکھو ، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے ، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: تیز تیز آنے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کا سانس پھول گیا اور گھٹنے کھل گئے، اس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے، جو کہتے ہیں کہ گھٹنے ستر میں داخل نہیں، اس حدیث میں اللہ تعالی کا کلام کرنا، نزول فرمانا، خوش ہونا جیسی صفات کا ذکر ہے، ان کو اسی طرح بلا تاویل و تحریف ماننا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ، ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8947 ، ومصباح الزجاجة : 301 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/ 197 ، 208 ) ( صحیح ) ( ملا حظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 661 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، کچھ لوگ واپس چلے گئے، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے، آپ کا سانس پھول رہا تھا، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ! یہ تمہارا رب ہے، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے: فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے، اور دوسرے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 801]
اردو حاشہ: (1)
نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا بہت عظیم عمل ہے۔

(2)
گھٹنا ستر میں شامل نہیں۔

(3)
اللہ تعالی مومن بندوں کے نیک اعمال سے خوش ہوتا ہے۔

(4)
اللہ تعالی فرشتوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔
کلام اللہ کی صفت ہے وہ جب چاہتا ہے جس سے چاہتا ہےکلام فرماتا ہے قیامت کے دن ہر انسان سے براہ راست کلام فرمائے گا اور حساب لے گا اہل جنت سے اپنی خوشنودی کے اظہار کے لیے کلام فرمائے گا۔

(5)
اللہ تعالی فرشتوں سے ہم کلام اس لیے ہوتا ہے کہ انھوں نے ہی اللہ تعالی کے سامنے ایک روز کہا تھا کہ آدم کی اولاد تیری نافرمانی کرے گی خون بہائے گی اور فساد برپا کرے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 801 سے ماخوذ ہے۔