سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ باب: مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے ، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 800]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 800]
اردو حاشہ: (1)
اللہ تعالی کا خوش یا ناراض ہونا اس کی صفت ہے۔
اللہ تعالی کی ان صفات کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ ان پر بلا تاویل ایمان لایا جائے۔
نہ ان کا انکار کیا جائے اور نہ انھیں مخلوق کی صفات سے تشبیہ دی جائے۔
(2)
مسجد میں نماز ذکر تلاوت وغیرہ جیسے نیک کاموں کے لیے جانا چاہیے۔
ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جو مسجد کے ادب کے منافی ہیں۔
(3) (تَطَوَّنَ)
کا لفظی مطلب ہے وطن بنا لینا۔
یہاں مراد ہے پابندی سے مسجد میں حاضری دینا اور ممکن حد تک زیادہ وقت مسجد میں گزارنا۔
اللہ تعالی کا خوش یا ناراض ہونا اس کی صفت ہے۔
اللہ تعالی کی ان صفات کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ ان پر بلا تاویل ایمان لایا جائے۔
نہ ان کا انکار کیا جائے اور نہ انھیں مخلوق کی صفات سے تشبیہ دی جائے۔
(2)
مسجد میں نماز ذکر تلاوت وغیرہ جیسے نیک کاموں کے لیے جانا چاہیے۔
ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جو مسجد کے ادب کے منافی ہیں۔
(3) (تَطَوَّنَ)
کا لفظی مطلب ہے وطن بنا لینا۔
یہاں مراد ہے پابندی سے مسجد میں حاضری دینا اور ممکن حد تک زیادہ وقت مسجد میں گزارنا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔