حدیث نمبر: 797
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 28 ( 651 ) ، ( تحفة الأشراف : 12521 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان 9 ( 615 ) ، 32 ( 654 ) ، 72 ( 721 ) ، الشہادات30 ( 2689 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 52 ( 225 ) ، سنن النسائی/المواقیت 21 ( 541 ) ، موطا امام مالک/الصلاة 1 ( 3 ) ، مسند احمد ( 2/236 ، 278 ، 303 ، 375 ، 376 ، 424 ، 466 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 53 ( 1309 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 657 | صحيح مسلم: 651 | بلوغ المرام: 316

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 797]
اردو حاشہ: (1)
  نیکی کے کاموں پر جسمانی راحت وآسائش کو ترجیح دینا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
مومن اللہ کی رضا کے لیے نیکی کرتا ہے ثواب کی امید کی وجہ سے مشکل نیکی بھی اس کے لیے آسان ہوتی ہے۔
منافق ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے ثواب آخرت کا طلب گار نہیں ہوتا اسے مجبوراً نماز پڑھنی پڑتی ہے تاکہ اسے مسلمان سمجھا جائے لہٰذا نیکی کا کام اسے ایک بیگار کی طرح دشوار محسوس ہوتا ہے۔
عشاء اور فجر کی نمازوں میں چونکہ جسمانی طور پر مشقت ہے اور ان کے لیے نفس سے جہاد کرنا پڑتا ہے اس لیے منافق ان کو زیادہ دشوار محسوس کرتے ہیں۔

(2)
جو شخص پابندی سے اور شوق کے ساتھ یہ نمازیں ادا کرتا ہے وہ عملی طور پر ثابت کردیتا ہے کہ وہ نفاق سے بری ہے۔

(3)
جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ خلاف سنت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 797 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 657 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
657. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز منافقین پر گراں نہیں ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (ثواب) ہے تو ان کے لیے ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں اور سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ مؤذن کو تکبیر کہنے کا حکم دوں، پھر کسی کو لوگوں کی امامت پر مامور کروں اور خود آگ کے شعلے لے کر ان لوگوں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:657]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ عشاءاورفجر کی جماعت دیگرنمازوں کی جماعت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے اورشریعت میں ان دونمازوں کا بڑا اہتمام ہے۔
جبھی توآپ نے ان لوگوں کے جلانے کا ارادہ کیا جو ان میں شریک نہ ہوں۔
مقصد باب یہی ہے اور باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 657 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 657 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
657. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز منافقین پر گراں نہیں ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (ثواب) ہے تو ان کے لیے ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں اور سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ مؤذن کو تکبیر کہنے کا حکم دوں، پھر کسی کو لوگوں کی امامت پر مامور کروں اور خود آگ کے شعلے لے کر ان لوگوں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:657]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کے گھروں کو جلا دینے کا ارادہ فرمایا تھا وہ منافقین نہ تھے بلکہ ان کا تعلق اہل اسلام سے تھا۔
صرف انھیں ان کی سستی پر خبردار کیا گیا اور ان کے کردار کو ایک منافقانہ کردار قرار دے کر انھیں برے انجام سے ڈرایا گیا۔
ویسے تو منافقین پر تمام نمازیں گراں ہوتی ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نماز کے لیے منافقین گراں بار اور سست طبیعت کے ساتھ آتے ہیں۔
(التوبة 9: 4)
لیکن عشاء اور فجر زیادہ گراں ہوتی ہیں، کیونکہ عشاء کے وقت کاروباری تھکاوٹ کی وجہ سے آرام اور سکون کرنا ہوتا ہے اور صبح کے وقت نیند کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔
منافقین کے ہاں قربانی کے جذبات ناپید ہوتے ہیں، اس لیے ان پر یہ دونوں نمازیں بہت بھاری ہوتی ہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے عزم کو عملی شکل نہیں دی بلکہ ان کے اہل و عیال کا خیال آنے پر ارادہ ترک کردیا جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 657 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 316 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے ثقیل و بوجھل نمازیں، نماز عشاء اور نماز فجر ہیں اگر ان کو علم ہو جائے کہ ان دونوں میں حاضر ہونے کا کتنا (عظیم) اجر و ثواب ہے تو یہ لازما ان میں شامل ہوتے خواہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 316»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
تشریح: ان نمازوں کو نہایت بوجھل اور بھاری کہا گیا ہے۔
عشاء تو اس لیے ثقیل ہے کہ اس وقت تھکے ماندے لوگ سو جانے کی کوشش کرتے ہیں یا اکیلے ہی نماز ادا کر کے سو جاتے ہیں، جماعت کو خاص اہمیت ہی نہیں دیتے اور فجر اس لیے گراں ہوتی ہے کہ شیطان نیند کے مارے ہوئے لوگوں کو اٹھنے ہی نہیں دیتا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 316 سے ماخوذ ہے۔