حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں ، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا “ ۔

وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 795
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 90 ، ومصباح الزجاجة : 298 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/206 ) ( صحیح ) » ( سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں ، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے ، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے ، تراجع الألبانی : رقم : 381 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔`
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 795]
اردو حاشہ:
رسول اللہ نے اس ارادے پر عمل نہیں فرمایا کیونکہ گھروں میں عورتیں اور بچے ہوتے ہیں جن پر جماعت میں ان کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ ﷺ نے درگزر فرمایا لیکن جماعت سے پیچھے رہنا رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا باعث تو ہے ہی، چنانچہ اسے ایک کبیرہ گناہ شمار کیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 795 سے ماخوذ ہے۔