حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی ، الا یہ کہ کوئی عذر ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 47 ( 551 ) ، ( تحفة الأشراف : 5560 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 551 | بلوغ المرام: 318

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 793]
اردو حاشہ:
نماز نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے نماز کا پورا ثواب نہ ملے گا یا وہ اس کی برکات سے محروم رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 793 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 318 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اذان سنے اور پھر نماز باجماعت میں شامل نہ ہو اس کی کوئی نماز نہیں الایہ کہ کوئی عذر مانع نہ ہو۔
اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان، حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے لیکن بعض نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 318»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، المساجد، باب التغليظ في التخلف عن الجماعة، حديث:793، والدار قطني:1 /420، وابن حبان (الإحسان): 3 /253، حديث:2061، والحاكم:1 /245، وتاريخ واسط لبحشل ص:202، وهيشم صرح بالسماع عنده.»
تشریح: اس حدیث سے بھی نماز باجماعت ضروری معلوم ہوتی ہے۔
ابوداود میں اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’خوف اور بیماری۔
‘‘ نیز اس میں «لاَصَلاَۃَ…» کی بجائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وہ نماز قبول نہیں کرتا‘ مگر اس کی سند میں ضعف ہے۔
(سنن أبي داود‘ الصلاۃ‘ باب التشدید في ترک الجماعۃ‘ حدیث:۵۵۱) نیز باد و باراں‘ یخ ٹھنڈی ہوا اور خوف وغیرہ بھی عذر میں شامل ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 318 سے ماخوذ ہے۔