سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا ، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً ، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے : «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے ، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے ، کیونکہ میں غرور ، تکبر ، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا ، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے ، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے ، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا “ تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا ، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے “ ۔