حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے ، پھر کہے : «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ” اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ اور جب نکلے تو یہ کہے : «اللهم إني أسألك من فضلك» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 772
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 10 ( 713 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 18 ( 465 ) ، سنن النسائی/المساجد 36 ( 730 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 117 عن فاطمة ( 314 ) ، ( تحفة الأشراف : 11893 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/425 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 115 ( 1434 ) ، الاستئذان 56 ( 2733 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔`
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 772]
اردو حاشہ:
مسجد میں داخل ہونے کا مقصد عبادت ہے جو اللہ کی رحمتوں کے نزول کا باعث ہے اس لیے مسجد میں آتے وقت اللہ سے رحمت کا سوال کیا جاتا ہے۔
مسجد سے باہر نکل کر انسان دیگر کاموں میں مشغول ہوتا ہے جن کا تعلق اس کے معاش سے ہوتا ہے اس لیے اس وقت اللہ سے اس کا فضل مانگا جاتا ہے تاکہ حلال اور بابرکت روزی حاصل ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 772 سے ماخوذ ہے۔