حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو ، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 768
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14555 ، 14559 ، ومصباح الزجاجة : 288 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة 142 ( 348 ) مختصراً ، سنن الدارمی/الصلاة 112 ( 1431 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 348

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس میں یہ حکمت ہے کہ اگر کوئی بکری سینگ وغیرہ مارنے کی کوشش کرے تو نمازی اس کو سنبھال سکتا ہے اس سے جان کا خطرہ نہیں۔
لیکن اگر اونٹ شرارت پر آمادہ ہوجائے تو اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہےاور اگر اچانک حملہ کردے تو جان کا بھی خطرہ ہے۔
ویسے بيٹھے ہوئے اونٹ کی طرف منہ کرکے رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الصلاة، باب الصلاة الي الراحلة والبعير والشجر والرحل،   حديث: 507)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 768 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 348 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
اردو حاشہ:
1؎: ((صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ)) میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور((وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ)) میں نہی تحریمی ہے، یعنی حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 348 سے ماخوذ ہے۔