حدیث نمبر: 765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَهُ ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو ایک شخص نے کہا : میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کرے تمہیں نہ ملے ، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 765
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 18 ( 569 ) ، ( تحفة الأشراف : 1936 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/349 ، 420 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 569

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
اردو حاشہ: (1) (ضالة)
گمشدہ جانور کو کہا جاتا ہے تاہم دوسری گمشدہ اشیاء پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

(2)
اس بد دعا کا مقصد اس اعلان سے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔
یہ بھی تنبیہ کا ایک اسلوب ہے۔

(3)
مسجدوں کی تعمیر کا مقصد نماز کی ادائیگی وعظ ونصیحت اور تعلیم وتعلم ہے، مسجد سے باہر گم ہونے والی چیزوں کی تلاش نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 765 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 569 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا کہ سرخ اونٹ کے بارے میں کون بتائے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تجھے نہ ملے، مسجدیں صرف انہیں کاموں کے لیے بنی ہیں جن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1262]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مسجد بنانے کا اصل مقصد نماز، تلاوت، ذکر و اذکار اور دین کی تعلیمات اور وعظ و نصیحت ہے، اور لوگوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھا کر گمشدہ چیز کا اعلان کرنا ان مقاصد کے منافی ہے حتی کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علمی بحث اور مذاکرہ کو بھی آواز کے بلند ہو جانے کی بنا پر ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ انسان اپنی ذات کی ضرورت کے لیے مسجد میں سوال بھی نہیں کر سکتا، صرف دینی ضرورت کے لیے یا مفادِعامہ کی چیز کا سوال کر سکتا ہے۔
اس لیے آپﷺ نے اپنے گمشدہ اونٹ کے بارے میں اعلان کرنے والے کو رَحْمَةٌ الِّلْعَالَمِیْن ہونے کے باوجود بدعا دی، جس سے ثابت ہوتا ہے مسجد سے خارج گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنا درست نہیں ہے۔
خاص کر نماز اور تعلیم وتدریس کے اوقات میں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1262 سے ماخوذ ہے۔