حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المساجد والجماعات / حدیث: 764
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17287ومصباح الزجاجة : 287 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة 33 ( 406 ) ، صحیح مسلم/المساجد 13 ( 549 ) ، موطا امام مالک/القبلة 3 ( 5 ) ، مسند احمد ( 4/138 ، 148 ، 230 ، 6/138 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 407 | صحيح مسلم: 549

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 407 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
407. ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیوار قبلہ پر ناک کی رطوبت یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے کھرچ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:407]
حدیث حاشیہ:
حضرت انس ؓ کی روایت میں بلغم، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں تھوک اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں شک کے طور پر ناک کی رطوبت، تھوک اور بلغم کاذکر ہے۔
امام بخاری ؒ ان تینوں روایات کولاکر یہ بتاناچاہتے ہیں کہ منہ کا تھوک ہویاناک کی رطوبت یا سینے کا بلغم، تینوں ہی قابل نفرت چیزیں ہیں اور مسجد کے معاملے میں ان کا حکم برابر ہے۔
یہ چیزیں مسجد کے فرش پر نظر آئیں یا دیوار قبلہ پر، ترہوں یا خشک، احترام مسجد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انھیں فوراً دور کردیا جائے، یہ ہر دیکھنے والے کے ذمے داری ہے، مسجد کے خادم یا مؤذن کا انتظار نہ کیا جائے۔
اس سے نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، لہذا انھیں کسی صورت میں بھی برقرار نہ رکھا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 407 سے ماخوذ ہے۔