سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي ، وَتُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ ، فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ ، فَكُنِسَ وَرُشَّ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ : الْفَحْلُ هُوَ : الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا ، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں ، اور اس میں نماز بھی پڑھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا ، وہ صاف کیا گیا ، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۱؎ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو ۔