سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ باب: جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ ، وَمَجَانِينَكُمْ ، وَشِرَاءَكُمْ ، وَبَيْعَكُمْ ، وَخُصُومَاتِكُمْ ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی مسجدوں کو بچوں ، دیوانوں ( پاگلوں ) ، خرید و فروخت کرنے والوں ، اور اپنے جھگڑوں ( اختلافی مسائل ) ، زور زور بولنے ، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو ، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کر دینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔