حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ أَظُنُّهُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ يَزْدَادُ ، وَيَنْقُصُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایمان کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 75]
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 75]
اردو حاشہ: (1)
یہ دونوں آثار اگرچہ سنداً ضعیف ہیں، اور مرفوعاً ثابت نہیں لیکن یہ بات سلف سے متواتر نقل ہوتی چلی آئی ہے اور مشہور ہے، اس لیے ایمان میں کمی بیشی، اہل سنت کے ہاں مسلم ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الایمان کے پہلے باب میں اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی متعدد آیات ذکر فرمائی ہیں اور اس کے بعد کئی ابواب میں ایسی احادیث ذکر فرمائی ہیں جن سے نیک اعمال کا اجزائے ایمان ہونا ثابت ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ جس چیز کے اجزا ہوں، ان میں سے اگر ایک یا چند جز مفقود ہوں تو وہ چیز ناقص ہو جاتی ہے۔
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتح الباری کے متعلقہ ابواب کا مطالعہ مفید ہو گا۔
یہ دونوں آثار اگرچہ سنداً ضعیف ہیں، اور مرفوعاً ثابت نہیں لیکن یہ بات سلف سے متواتر نقل ہوتی چلی آئی ہے اور مشہور ہے، اس لیے ایمان میں کمی بیشی، اہل سنت کے ہاں مسلم ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الایمان کے پہلے باب میں اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی متعدد آیات ذکر فرمائی ہیں اور اس کے بعد کئی ابواب میں ایسی احادیث ذکر فرمائی ہیں جن سے نیک اعمال کا اجزائے ایمان ہونا ثابت ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ جس چیز کے اجزا ہوں، ان میں سے اگر ایک یا چند جز مفقود ہوں تو وہ چیز ناقص ہو جاتی ہے۔
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتح الباری کے متعلقہ ابواب کا مطالعہ مفید ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 75 سے ماخوذ ہے۔