سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ باب: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَاغِيَتُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟`
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 743]
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 743]
اردو حاشہ:
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رو سے صحیح ہے۔
طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔
معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔
نیز تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کروائیں دیکھیے: عون المعبود۔
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رو سے صحیح ہے۔
طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔
معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔
نیز تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کروائیں دیکھیے: عون المعبود۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 743 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 450 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مساجد کی تعمیر کا بیان۔`
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 450]
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 450]
450۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رُو سے صحیح ہے۔ طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات بت کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔ اس بت خانہ کی جگہ کا بایاں منارہ پڑتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے، بالخصوص اس صورت میں جب کہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔ اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کرائیں۔ [عون المعبود]
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رُو سے صحیح ہے۔ طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات بت کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔ اس بت خانہ کی جگہ کا بایاں منارہ پڑتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے، بالخصوص اس صورت میں جب کہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔ اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کرائیں۔ [عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 450 سے ماخوذ ہے۔