حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُف مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ ، فَهُوَ مُنَافِقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مسجد میں ہو ، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے ، تو وہ منافق ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ نماز پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأذان والسنة فيه / حدیث: 734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ابن أبي فروة: متروك, وعبد الجبار بن عمر: ضعيف, و قال الھيثمي: عبد الجبار بن عمر الأيلي عن عبد اللّٰه بن عطاء بن إبراھيم و كلاھما وثق و قد ضعفهما الجمھور (انظر مجمع الزوائد 85/7), ولبعض الحديث شواھد عند الطبراني في الأوسط (3854) والبيھقي (3/ 56) وغيرھما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 405
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9841 ، ومصباح الزجاجة : 273 ) ( صحیح ) » ( تراجع الألبانی : رقم : 384 ) ، اس سند میں عبد الجبار صاحب مناکیر ہیں ، اور ابن أبی فروہ منکر الحدیث لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2518 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت۔`
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 734]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفسیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2518)

(2)
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بلاوجہ نماز باجماعت کی فضیلت کو ترک کیا ہےاور نیکی سے محبت رکھنے والا مومن ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 734 سے ماخوذ ہے۔