سنن ابن ماجه
كتاب الأذان والسنة فيه— کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
بَابُ : إِذَا أُذِّنَ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلاَ تَخْرُجْ باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُف مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ ، فَهُوَ مُنَافِقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مسجد میں ہو ، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے ، تو وہ منافق ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ نماز پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت۔`
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 734]
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 734]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفسیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2518)
(2)
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بلاوجہ نماز باجماعت کی فضیلت کو ترک کیا ہےاور نیکی سے محبت رکھنے والا مومن ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔
فوائدومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفسیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2518)
(2)
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بلاوجہ نماز باجماعت کی فضیلت کو ترک کیا ہےاور نیکی سے محبت رکھنے والا مومن ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 734 سے ماخوذ ہے۔