حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا نِزَارُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ ، أَهْلُ الْإِرْجَاءِ ، وَأَهْلُ الْقَدَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں : ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ ( منکرین قدر ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 73
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نزار: ضعيف (ترمذي: 2149), وللحديث شواهد ضعيفة, وروي الطبراني في الأوسط (113/5ح4216) بسند صحيح عن حميد (الطويل) عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((صنفان من أمتي لا يردان الحوض ولا يدخلان الجنة: القدرية والمرجئة)) وھو حديث صحيح حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي اللّٰه عنه وثابت البناني ثقة, وروي الطبراني في الأوسط (5/ 113۔114 ح 4217) أيضًا بسند صحيح عن حميد عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((القدرية والمرجئة مجوس ھذه الأمة فإن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم)) وھو حديث صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2498 ، ومصباح الزجاجة : 27 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں نزار بن حیان ضعیف راوی ہیں ، اور عکرمہ سے ایسی روایت کرتے ہیں ، جو ان کی نہیں ہو تی ، اور عبدالرحمن محمدا للیثی مجہول ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایمان کا بیان۔`
ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ (منکرین قدر)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 73]
اردو حاشہ:
یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم مرجئہ اور قدریہ کی وضاحت حدیث نمبر: 62 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 73 سے ماخوذ ہے۔