سنن ابن ماجه
كتاب الأذان والسنة فيه— کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
بَابُ : فَضْلِ الأَذَانِ وَثَوَابِ الْمُؤَذِّنِينَ باب: اذان کی فضیلت اور مؤذن کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْأَزْرَقُ الْبُرْجُمِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَذَّنَ مُحْتَسِبًا سَبْعَ سِنِينَ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 206 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اذان کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 206]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 206]
اردو حاشہ:
1؎:
اس کے با وجود باعتراف امام ابو حنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے، امام ابو حنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔
نوٹ:
(سند میں ’’جابرجعفی‘‘ ضعیف متروک الحدیث راوی ہے)
1؎:
اس کے با وجود باعتراف امام ابو حنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے، امام ابو حنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔
نوٹ:
(سند میں ’’جابرجعفی‘‘ ضعیف متروک الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 206 سے ماخوذ ہے۔