حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اور یہ ان کے شرف و اعزاز اور بلند رتبہ کی دلیل ہو گی، اور گردن لمبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اعمال زیادہ ہوں گے، یا حقیقت میں گردنیں لمبی ہوں گی، اور وہ جنت کو دیکھتے ہوں گے، یا وہ لوگوں کے سردار ہوں گے، عرب لوگ سردار کو لمبی گردن والا کہتے ہیں، یا وہ پیاسے نہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ گردن اٹھی ہو گی، اور لوگ پیاس کے مارے گردن موڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأذان والسنة فيه / حدیث: 725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 8 ( 387 ) ، ( تحفة الأشراف : 11435 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/95 ، 98 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 387

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اذان کی فضیلت اور مؤذن کے ثواب کا بیان۔`
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 725]
اردو حاشہ:
فائده:
گردنیں لمبی ہونے سے اس کی سر بلندی اور سرفراززی کی طراف اشارہ ہے اور گردن کا حقیقت میں لمبا ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور ظاہری معنی مراد لینا ہی زیادہ قرین صواب ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب دوسرے لوگ پیاس کی وجہ سے پریشان ہوکر سر جھکائے ہوئے ہونگے لیکن مؤذن اس وقت خوش حال اور آسودہ ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 387 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
طلحہ بن یحییٰ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن آیا اور ان کو نماز کے لیے بلایا تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب لوگوں سے لمبی ہوں گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:852]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مؤذن کو اذان کے لیے بہت مستعد اور چوکس ہونا پڑتا ہے اور سب لوگ اذان سن کر ہی نماز کا اہتمام کرتے ہیں، اس لیے قیامت کو اسے یہ شرف اور اعزاز حاصل ہو گا کہ وہ سب سے ممتاز اور منفرد نظر آئے گا، یا کثرت اجرو ثواب کی بنا پر اس کی گردن بلند ہو گی، تاکہ میدان حشر کے پسینہ سے اس کا چہرہ محفوظ رہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 387 سے ماخوذ ہے۔