سنن ابن ماجه
كتاب الأذان والسنة فيه— کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
بَابُ : السُّنَّةِ فِي الأَذَانِ باب: اذان کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَقِيلَ : هُوَ نَائِمٌ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ " ، فَأُقِرَّتْ فِي تَأْذِينِ الْفَجْرِ ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے ، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے دو بار «الصلاة خير من النوم ، الصلاة خير من النوم» کہا ” نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے “ تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے ، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اذان کی سنتوں کا بیان۔`
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں، تو بلال رضی اللہ عنہ نے دو بار «الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم» کہا ” نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے “ تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 716]
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں، تو بلال رضی اللہ عنہ نے دو بار «الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم» کہا ” نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے “ تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 716]
اردو حاشہ:
فائده:
مذكوره روايت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے۔
جبکہ شیخ البانی ؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (تخریج فقه السیرۃ: 203)
نیز (اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ)
کی بابت گزشتہ حدیث کا فائدہ ملاحظہ فرمائیں.
فائده:
مذكوره روايت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے۔
جبکہ شیخ البانی ؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (تخریج فقه السیرۃ: 203)
نیز (اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ)
کی بابت گزشتہ حدیث کا فائدہ ملاحظہ فرمائیں.
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 716 سے ماخوذ ہے۔