سنن ابن ماجه
كتاب الأذان والسنة فيه— کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
بَابُ : السُّنَّةِ فِي الأَذَانِ باب: اذان کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے ، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آ جاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال رضی اللہ عنہ اقامت شروع کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اذان کی سنتوں کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 713]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 713]
اردو حاشہ: (1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی وجہ سے احسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد بن حنبل: 435/34 حديث: 20849)
وارواء الغليل رقم: 227)
لہٰذا شواہد کی بناء پر یہ حدیث قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
(2)
اذان اس چیز کا اعلان ہے کہ نماز کا وقت شروع ہوگیا ہے۔
اس لیے اذان اول وقت دینی چاہیے جب کہ اقامت نماز شروع ہونے کی اطلاع ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اقامت کہتے تھے جب رسول اللہ ﷺ تشریف لے آتے۔
(3)
اگر امام کو نماز پڑھانے کے لیے آنے میں مقرر وقت سے کچھ تاخیر ہوجائے تو امام کا انتظار کرنا چاہیے۔
جلدی مچانا اور فوراً کسی دوسرے آدمی کو آگے کردینا درست نہیں۔
ہاں اگر معلوم ہو کہ امام صاحب موجود نہیں اور وہ نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں نہیں آئیں گے پھر کسی اور شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی وجہ سے احسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد بن حنبل: 435/34 حديث: 20849)
وارواء الغليل رقم: 227)
لہٰذا شواہد کی بناء پر یہ حدیث قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
(2)
اذان اس چیز کا اعلان ہے کہ نماز کا وقت شروع ہوگیا ہے۔
اس لیے اذان اول وقت دینی چاہیے جب کہ اقامت نماز شروع ہونے کی اطلاع ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اقامت کہتے تھے جب رسول اللہ ﷺ تشریف لے آتے۔
(3)
اگر امام کو نماز پڑھانے کے لیے آنے میں مقرر وقت سے کچھ تاخیر ہوجائے تو امام کا انتظار کرنا چاہیے۔
جلدی مچانا اور فوراً کسی دوسرے آدمی کو آگے کردینا درست نہیں۔
ہاں اگر معلوم ہو کہ امام صاحب موجود نہیں اور وہ نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں نہیں آئیں گے پھر کسی اور شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 713 سے ماخوذ ہے۔