سنن ابن ماجه
كتاب الصلاة— کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ نَسِيَهَا باب: نماز کے وقت سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ ، فَقَالَ : نَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً ، أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ : فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ وَأَنَا أُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ ، فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا .
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا : لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نیند میں کوتاہی نہیں ہے ، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے ، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے ، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا : نوجوان ! ذرا غور کرو ، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو ؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا: لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے “ ۱؎۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا: نوجوان! ذرا غور کرو، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو؟ اس حدیث کے وقت میں خود۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 698]
اگلے دن وقت پر ادا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نماز دوبارہ ادا کی جائے۔
ایک بار عذر کی وجہ سے وقت گزرجانے کے بعد، اور دوسری دفعہ اگلے دن صحیح وقت پر، یعنی دوسرے دن ایک نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائےگی۔
ایک پہلے دن کی، ایک دوسرے دن کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ آئندہ احتیاط کرے باربار نماز بے وقت نہ پڑھے۔
(2)
چھوٹوں کو بزرگوں کی موجودگی میں حدیث یا علمی مسائل بیان کرنا درست ہے تاکہ اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اصلاح کردی جائے۔
(3)
حدیث کی روایت میں احتیاط ضروری ہے ایسا نہ ہوکہ حدیث میں غلطی سے کوئی بات ذکر کردی جائے جو اصل میں حدیث میں شامل نہ ہو اور سامعین اسے حدیث سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کردیں۔