سنن ابن ماجه
كتاب الصلاة— کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
بَابُ : مِيقَاتِ الصَّلاَةِ فِي الْغَيْمِ باب: بادل میں نماز کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَن بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَقَالَ :" بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فِي الْيَوْمِ الْغَيْمِ ، فَإِنَّهُ مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو ، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی ، اس کا عمل برباد ہو گیا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس دن کے اعمال کا پورا ثواب اس کو نہیں ملے گا کیونکہ عصر کی نماز ہی ان اعمال میں ایک بڑا عمل تھا، اسی کو اس نے برباد کر دیا، یا اس دن کے کل اعمال لغو اور بیکار ہو جائیں گے، اور اس کو مطلق ثواب نہیں ملے گا، یا عمل سے مراد وہ عمل ہے جس میں وہ مصروف رہا، اور اس کی وجہ سے نماز قضا کی، مطلب یہ ہے کہ اس عمل میں برکت، اور منفعت نہ ہوگی، بلکہ نحوست پیدا ہو گی، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بادل کے دن نماز میں جلدی کرنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور خبر نہ ہو، بعضوں نے کہا کہ بادل کے دن عصر اور عشاء میں جلدی کرے، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بادل میں نماز کے وقت کا بیان۔`
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی، اس کا عمل برباد ہو گیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 694]
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی، اس کا عمل برباد ہو گیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 694]
اردو حاشہ:
فائدہ: گناہ کی وجہ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔
عصر کی نماز کا چھوٹ جانا بڑا گناہ ہے۔
جس کی وجہ سے دن بھر کے عمل ضائع ہوسکتے ہیں۔
فائدہ: گناہ کی وجہ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔
عصر کی نماز کا چھوٹ جانا بڑا گناہ ہے۔
جس کی وجہ سے دن بھر کے عمل ضائع ہوسکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 694 سے ماخوذ ہے۔