حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَوْلَا الضَّعِيفُ وَالسَّقِيمُ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ، پھر آدھی رات تک ( حجرہ سے ) باہر نہ آئے ، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ” اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 7 ( 422 ) ، سنن النسائی/المواقیت 20 ( 539 ) ، ( تحفة الأشراف : 4314 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 539 | سنن ابي داود: 422