حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المواقیت 18 ( 561 ) ، صحیح مسلم/المساجد 38 ( 636 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 6 ( 417 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 8 ( 164 ) ، ( تحفة الأشراف : 4535 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/ 15 ، 54 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 16 ( 1245 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز مغرب کا وقت۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 688]
اردو حاشہ:
فائدہ: اوٹ (پردے)
میں چھپ جانے کا مطلب یہ ہےکہ سورج کی ٹکیہ پوری طرح غروب ہوجاتی اور اس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا یعنی سورج مکمل طور پر غروب ہونے پر نماز مغرب کا وقت شروع ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 688 سے ماخوذ ہے۔