سنن ابن ماجه
كتاب الصلاة— کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِر ، فَقَالَ لَنَا : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ” نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 680]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ” نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 680]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن متناً ومعناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ احادیث میں یہی مسئلہ بیان ہوا ہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن متناً ومعناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ احادیث میں یہی مسئلہ بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 680 سے ماخوذ ہے۔