حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِدَلْوٍ فَمَضْمَضَ مِنْهُ ، فَمَجَّ فِيهِ مِسْكًا ، أَوْ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی خدمت میں ( پانی کا ) ڈول حاضر کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی ، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکیزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند منقطع: عبد الجبار لم يسمع من أبيه كما قال البخاري (جامع الترمذي: 1453), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11767 ، ومصباح الزجاجة : 249 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/ 316 ، 318 ) ( ضعیف ) » ( یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الجبار بن وائل اور ان کے والد کے مابین انقطاع ہے ، انہوں نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے )