حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَلُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ، اور ان کا لعاب آپ کے اوپر بہہ رہا تھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کا لعاب پاک ہے، اسی طرح بڑے آدمی کا بھی لعاب پاک ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14366 ، ومصباح الزجاجة : 248 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/447 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کپڑے پر تھوک (لعاب) لگ جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، اور ان کا لعاب آپ کے اوپر بہہ رہا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 658]
اردو حاشہ: (1)
انسان کے منہ کا لعاب پاک ہے۔

(2)
بچے کو گود میں یا کندھے پر اٹھانا بلند مقام ومنصب کے منافی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 658 سے ماخوذ ہے۔