حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تَخْتَضِبُ الْحَائِضُ ؟ فَقَالَتْ : " قَدْ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَخْتَضِبُ فَلَمْ يَكُنْ يَنْهَانَا عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا حائضہ مہندی لگا سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہندی لگاتے تھے ، لیکن آپ ہمیں منع نہ فرماتے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17972 ، ومصباح الزجاجة : 246 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حائضہ عورت کے خضاب (مہندی) لگانے کا بیان۔`
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حائضہ مہندی لگا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہندی لگاتے تھے، لیکن آپ ہمیں منع نہ فرماتے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 656]
اردو حاشہ: (1)
منع نہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے۔
جب کوئی کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیا جائےاور آپ اس سے منع نہ کریں تو اس سے اس کام کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
جس حدیث میں اس قسم کا واقعہ ذکر ہو اسے تقریری حدیث کہتے ہیں۔

(2)
خضاب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو ہاتھوں وغیرہ پر یا سر کے بالوں پر لگایا جائےاور اس سے ہاتھوں یا بالوں کا رنگ بدل جائے۔
مہندی بھی خضاب ہی کی ایک صورت ہے۔

(3)
مہندی لگانا جس طرح طہر کےایام میں جائز ہے اسی طرح حیض کے ایام میں بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 656 سے ماخوذ ہے۔