حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَوْ سَلْمٍ شَكَّ أَبُو الْحَسَنِ وَأَظُنُّهُ هُوَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, سلام الطويل: متروك (تقريب: 2702), والمحاربي مدلس و عنعن, وللحديث شواهد كثيرة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 690 ، ومصباح الزجاجة : 244 ) ( ضعیف جدًا ) » ( سند میں سلام بن سلیم ( یا سلم ) أبوسلیمان الطویل المدائنی متروک الحدیث ہے ، أبو الاحوص ثقہ متقن ہیں ، جو صحاح ستہ کے روای ہیں ، مدائنی سے صرف ابن ماجہ نے روایت کی ہے ، اور سند میں یہی مدائنی ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 5653 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر کی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 649]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن اس میں بیان کردی مسئلہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 649 سے ماخوذ ہے۔