حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّهْلِيِّ ، عَنْ جَسْرَةَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ ، وَلَا لِحَائِضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا : ” مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو الخطاب و محدوج مجھولان (تقريب: 8081،6498), والحديث ضعفه البوصيري وحديث أبي داود (232) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18251 ، ومصباح الزجاجة : 242 ) ( ضعیف ) » ( اس سند میں ابوالخطاب الہجری ، اور محدوج الذہلی دونوں مجہول الحال ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حائضہ عورت مسجد سے دور رہے۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بآواز بلند اعلان کیا: مسجد کسی حائضہ اور جنبی کے لیے حلال نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 645]
اردو حاشہ:
اس حدیث کی سند بعض کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک شواہد کی بناء پر حسن ہے اس لیے اس میں بیان کردہ مسئلہ صحیح ہے اور اس پر علماءکا اتفاق ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 645 سے ماخوذ ہے۔