حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَحِيضُ ، ثُمَّ تَقْتَنِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی ، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحیض 9 ( 308 ) ، ( تحفة الأشراف : 17508 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 630]
اردو حاشہ:
جس کپڑے میں ایام آئے ہوں، اگر خون نہ لگا ہوتو پاک ہے، اگر خون لگ جائے تو دھونے سے پاک ہوجاتا ہے۔
اور پاک کپڑا پہن کر نماز درست ہے، شک نہیں کرنا چاہیے، تاہم اگر ایام مخصوصہ کے لیے الگ لباس مخصوص کرلے تو جائز ہے۔ (صحیح البخاری، الحیض، باب من اتخذ ثیاب الحیض سوی ثیاب الطھر، حدیث: 323)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 630 سے ماخوذ ہے۔