حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ ( سپاری ) چھپ جائے ، تو غسل واجب ہو گیا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ابتداء اسلام میں انزال کے بغیر غسل واجب نہ تھا، اس کے بعد محض «التقى الختانان» یعنی شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف حجاج وھو ابن أرطاة وتدليسه وقد رواه بالعنعنة ‘‘, وللحديث شواھد ضعيفة, والحديث السابق (الأصل: 608) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8676 ، ومصباح الزجاجة : 235 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/178 ) ( صحیح ) » ( سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں ، لیکن حدیث صحیح مسلم وغیرہ میں متعدد طرق سے وارد ہے ، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی 3/260 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ (سپاری) چھپ جائے، تو غسل واجب ہو گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 611]
اردو حاشہ:
سپاری (حشفہ)
عضو خاص کے اس حصے کو کہتے ہیں جس پر ختنہ سے پہلے پردہ ہوتا ہے اور ختنہ کرنے سے وہ حصہ ظاہر ہو جاتا ہے۔
ختنے باہم ملنے کا مفہوم وہی ہے جو سپاری کے (عورت کے مقام مخصوص میں)
چھپ جانے کا ہے۔
یہ روایت ماقبل کی روایت کے ہم معنی ہے، اس لیے بعض نے اس کو صحیح قراردیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 611 سے ماخوذ ہے۔