سنن ابن ماجه
أبواب التيمم— کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
. بَابُ : تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا " ، قُلْتُ : وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ ؟ قَالَ : " غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزانہ پانچوں نمازیں ، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک ، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں “ ، میں نے پوچھا : امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غسل جنابت ، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں «بينها» ہے)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔`
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں “، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 598]
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں “، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 598]
اردو حاشہ: (1)
جنابت کے غسل کو امانت کی ادائیگی سے تعبیر کیا گیا ہے ’’یعنی جیسے امانت صاحبِ امانت کو ادا کرنا ضروری ہے ’’ایسے ہی جنابت کا غسل بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ غسل کے بغیر جنابت کی ناپاکی زائل نہیں ہوگی۔
(2)
جن اعمال کی بابت کہا گیا ہے کہ وہ کفارہ بن جاتے ہیں تو ان سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ کسی عمل سے نہیں بلکہ خالص توبہ سے معاف ہوتے ہیں یا اللہ تعالی کی خصوصی رحمت سے۔
جنابت کے غسل کو امانت کی ادائیگی سے تعبیر کیا گیا ہے ’’یعنی جیسے امانت صاحبِ امانت کو ادا کرنا ضروری ہے ’’ایسے ہی جنابت کا غسل بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ غسل کے بغیر جنابت کی ناپاکی زائل نہیں ہوگی۔
(2)
جن اعمال کی بابت کہا گیا ہے کہ وہ کفارہ بن جاتے ہیں تو ان سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ کسی عمل سے نہیں بلکہ خالص توبہ سے معاف ہوتے ہیں یا اللہ تعالی کی خصوصی رحمت سے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 598 سے ماخوذ ہے۔