حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صُبَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَنَامُ ، أَوْ يَأْكُلُ ، أَوْ يَشْرَبُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ ( بحالت جنابت ) سو سکتا ہے ، یا کھا پی سکتا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب وہ نماز جیسا وضو کر لے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد وثقه ابن حبان وضعفه الجمھور الأئمة،قاله الھيثمي (مجمع الزوائد 5/ 130), وھو ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2280 ) ( صحیح ) » ( سند میں شرحبیل ہیں ، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا ، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کر لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 592]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن متناً ومعناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث: 585 اور صحیح مسلم کی حدیث نمبر: 302 میں بھی یہ مسئلہ بیان ہوا ہے غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 592 سے ماخوذ ہے۔