حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُرَيْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے ، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جنابت حکمی نجاست ہے، اور اگر اس پر اور کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنبی کا بدن پاک ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 580
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (123), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطہارة 91 ( 123 ) ، ( تحفة الأشراف : 17620 ) ( ضعیف ) ( اس حدیث کی سند میں راوی «حریث» ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 580]
اردو حاشہ:
حدیث 534۔ 535 میں بیان ہوا کہ جنبی کا جسم ناپاک نہیں ہوتا، یعنی نجاست حکمی (جنابت)
نجاست حسی (پیشاب وغیرہ)
کی طرح نہیں۔
اس لحاظ سے مرد غسل کرنے کے بعد اگر اپنی جنبی بیوی کے ساتھ لیٹے تو کوئی حرج نہیں، تاہم یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اسے رسول اللہ ﷺ کا عمل کہہ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 580 سے ماخوذ ہے۔