حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سَأَلَهُ رَجُلٌ كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ " ، قَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` کسی شخص نے ان سے پوچھا : جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے ، اس پر اس شخص نے کہا : میرے بال لمبے ہیں ، تو انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے ، اور زیادہ پاک و صاف رہنے والے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سر پر ڈالنے کے لیے تین لپ پانی کافی ہوتا تھا، حقیقت یہ ہے کہ تین لپ میں سارا سر بخوبی تر ہو جاتا ہے، اور وہ غسل میں کافی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13063 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/251 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 1007

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1007 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1007-سعید مقبری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں، جس کے بال زیادہ ہیں، دونوں ہاتھوں میں تین مرتبہ بھر کے پانی ڈالنا میرے لیے کافی نہیں ہوگا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اس سے بھی زیادہ تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بھی زیادہ پاکیزہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر صرف تین مرتبہ پانی ڈال لیتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1007]
فائدہ:
اس حدیث میں غسل جنابت کا ایک مسئلہ ذکر ہوا ہے کہ سر پر تین مرتبہ پانی ڈالنا چاہیے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک چلو سر کی دائیں طرف، دوسرا سر کی بائیں طرف اور تیسرا سر کے درمیان میں ڈالنا چاہیے، یہ تفصیل صحیح مسلم اور صیح ابن خزیمہ میں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1006 سے ماخوذ ہے۔