سنن ابن ماجه
أبواب التيمم— کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ باب: غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟
حدیث نمبر: 576
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَ : ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : تین بار ( سارے جسم پر پانی بہائیں ) تو وہ کہنے لگا : میرے بال زیادہ ہیں ، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے ، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 576]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 576]
اردو حاشہ: 1۔
وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ صفائی اور طھارت کا اہتمام کرنے والے تھے۔
اس کے باوجود تین لپ پانی آپ کے لیے کافی ہوتا تھا’’اس لیے تمھارے لیے بھی یہ کافی ہونا چاہیے۔
دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بال تجھ سے زیادہ پاک تھے کیونکہ نبی ﷺ طہارت کا کوب کیال رکھتے تھے۔
بہر حال دونوں انداز سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ صفائی کے لیے زیادہ پانی ضائع کرنا ضروری نہیں۔
مناسب طریقے سے سر دھویا جائے تو تھوڑا پانی بھی کفایت کرسکتا ہے۔ 2۔
مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے کیونکہ بعد والی صحیح روایت میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔
وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ صفائی اور طھارت کا اہتمام کرنے والے تھے۔
اس کے باوجود تین لپ پانی آپ کے لیے کافی ہوتا تھا’’اس لیے تمھارے لیے بھی یہ کافی ہونا چاہیے۔
دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بال تجھ سے زیادہ پاک تھے کیونکہ نبی ﷺ طہارت کا کوب کیال رکھتے تھے۔
بہر حال دونوں انداز سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ صفائی کے لیے زیادہ پانی ضائع کرنا ضروری نہیں۔
مناسب طریقے سے سر دھویا جائے تو تھوڑا پانی بھی کفایت کرسکتا ہے۔ 2۔
مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے کیونکہ بعد والی صحیح روایت میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 576 سے ماخوذ ہے۔