حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ ؟ فَقَالَ : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ " ، قَالَ الْحَكَمُ : وَيَدَيْهِ ، وَقَالَ سَلَمَةُ : وَمِرْفَقَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا ، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے ، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا ۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «يديه» یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں «مرفقيه» یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا «مرفقيه» کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون رواية مرفقيه فإنها منكرة , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد ابن أبي ليلي: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5160 ، ومصباح الزجاجة : 230 ) ( صحیح ) » ( سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں ، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن «مرفقیہ» کا لفظ منکر ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار۔`
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
اردو حاشہ:
مطلب یہ ہے کہ ایک راوی (حکم)
نے کہا: چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو مل لیا (اور یہی بات صحیح ہے)
اور دوسرے راوی (سلمہ)
نے کہا کہ پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں پر پھیر لیا۔
یہ بات ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے راوی کے الفاظ: اپنی کہنیوں پر پھیرلیا کو بعض محققین نے منکر قراردیا ہےاور باقی روایت کو صحیح قراردیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 570 سے ماخوذ ہے۔