سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ باب: پگڑی پر مسح کا بیان۔
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، آپ کے سر پہ ایک قطری عمامہ تھا ، آپ نے اپنا ہاتھ عمامہ کے نیچے داخل کر کے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا ، اور عمامہ نہیں کھولا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 147 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں`
«. . . عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری (یعنی قطر بستی کا بنا ہوا) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ (پگڑی) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ (پگڑی) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 147]
«. . . عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ . . .»
”. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری (یعنی قطر بستی کا بنا ہوا) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ (پگڑی) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ (پگڑی) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 147]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداًً ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں اس میں پگڑی پر مسح کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے مگر حضرت مغیرہ بن شبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے باقی مسح پگڑی پر پورا کیا۔ یہاں عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پگڑی پر مسح صحیح سنت سے ثابت ہے۔ جیسے کہ حدیث نمبر [146] میں اس کی اجازت گزری ہے اور آگے حدیث نمبر [150] میں بھی اس کی صراحت آ رہی ہے۔
یہ روایت سنداًً ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں اس میں پگڑی پر مسح کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے مگر حضرت مغیرہ بن شبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے باقی مسح پگڑی پر پورا کیا۔ یہاں عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پگڑی پر مسح صحیح سنت سے ثابت ہے۔ جیسے کہ حدیث نمبر [146] میں اس کی اجازت گزری ہے اور آگے حدیث نمبر [150] میں بھی اس کی صراحت آ رہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 147 سے ماخوذ ہے۔