حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ الثُّمَالِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الطُّهُورُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 555
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمر بن عبد اللّٰه بن أبي خثعم ضعيف وغيره, والحديث الآتي (الأصل: 556) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15414 ) ( صحیح ) » ( اس حدیث کی سند میں عمر الثمالی ضعیف ہیں ، لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 555]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے یعنی مسئلہ درست ہے جیسا کہ آئندہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 555 سے ماخوذ ہے۔