سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: موزوں پر مسح کا بیان۔
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ ، " أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے ، آپ نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´موزوں پر مسح کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 549]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 549]
اردو حاشہ:
سابقہ تینوں روایات سنداً ضعیف ہیں جبکہ مسئلہ یعنی موزوں پر مسح کرنا صحیح ہےاور صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔
سابقہ تینوں روایات سنداً ضعیف ہیں جبکہ مسئلہ یعنی موزوں پر مسح کرنا صحیح ہےاور صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 549 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 155 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہدیہ قبول کرنا`
«. . . عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . . .»
”. . . بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 155]
«. . . عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . . .»
”. . . بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 155]
فوائد و مسائل:
➊ ہدیہ قبول کرنا اور قبول کے بعد فوراً استعمال میں لانا بھی جائز ہے اور یہ قبول کر لیے جانے کی علامت ہوتی ہے۔
➋ چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
➌ اس روایت کو اہل بصرہ کے تفردات میں سے شمار کرنا امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے تسامحات میں سے ہے۔ [عون المعبود]
➊ ہدیہ قبول کرنا اور قبول کے بعد فوراً استعمال میں لانا بھی جائز ہے اور یہ قبول کر لیے جانے کی علامت ہوتی ہے۔
➋ چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
➌ اس روایت کو اہل بصرہ کے تفردات میں سے شمار کرنا امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے تسامحات میں سے ہے۔ [عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 155 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2820 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کالے موزوں کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2820]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2820]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دلھم ضعیف ہیں، اور حجیر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داؤد رقم: 144)
نوٹ:
(سند میں دلھم ضعیف ہیں، اور حجیر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داؤد رقم: 144)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2820 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3620 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کالے موزے پہننے کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3620]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3620]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نیز عظیم محقق شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت پر طویل بحث کی ہے اور اس کے شواہد بھی ذکر کیے ہیں جس سے حدیث کو حسن قرار دینے والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونےکے باوجود قابل عمل ہے۔
واللہ أعلم مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 38/ 83، 84 وصحيح سنن أبي داؤد (مفصل)
للألبانى: 1/ 266، 268 رقم: 144)
(2)
حضرت نجاشی رحمہ اللہ حبشہ کے باد شاہ تھے۔
ہجرت مدینہ سے پہلے جو مسلمان ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے نجاشی رحمہ اللہ نے انہیں احترام سے رکھا تھا۔
رسول اللہ ﷺنے نجاشی رحمہ اللہ کے فوت ہونے پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔
(3)
سیاہ موزے پہننا جائز ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نیز عظیم محقق شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت پر طویل بحث کی ہے اور اس کے شواہد بھی ذکر کیے ہیں جس سے حدیث کو حسن قرار دینے والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونےکے باوجود قابل عمل ہے۔
واللہ أعلم مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 38/ 83، 84 وصحيح سنن أبي داؤد (مفصل)
للألبانى: 1/ 266، 268 رقم: 144)
(2)
حضرت نجاشی رحمہ اللہ حبشہ کے باد شاہ تھے۔
ہجرت مدینہ سے پہلے جو مسلمان ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے نجاشی رحمہ اللہ نے انہیں احترام سے رکھا تھا۔
رسول اللہ ﷺنے نجاشی رحمہ اللہ کے فوت ہونے پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی تھی۔
(3)
سیاہ موزے پہننا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3620 سے ماخوذ ہے۔