حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ مَاءٍ ؟ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا : ” کچھ پانی ہے “ ؟ ، پھر آپ نے وضو کیا ، اور موزوں پر مسح کیا ، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962), وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ما جہ ، ( تحفة الأشراف : 1093 ، ومصباح الزجاجة : 227 ) ( ضعیف ) » ( عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں ، اور عطاء خراسانی اور انس رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے ، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )