سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ باب: جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً ، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ ، وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ " .
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی ، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں ، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 541]
اگر کپڑا بڑا ہو اوراس سے جسم کے اکثر حصے چھپ جائیں تو نماز کے لیے کافی ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ نماز پڑھتے وقت دو یا تین کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔
(2)
امام ہو یا مقتدی سر ڈھانپ کر نماز ادا کرنا ضروری نہیں۔
گو مستقل طور پر ننگے سر رہنا مستحسن طریقہ نہیں۔
(3)
یہ حکم مرد کے لیے ہے عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سر پر اوڑھنی بھی ہو یعنی اگر عورت لمبی قمیص پہن لے جس سے اس کے پاؤں چھپ جائیں اور سر پر کپڑا لےلے تو صرف دو کپڑوں میں اس کی نماز درست ہوجائے گی۔
(4)
ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ یہ روایت معناً اور متناً صحیح ہے جیسا کہ گزشتہ روایت میں ہے۔
غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔