حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ ، فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ ، فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لِمَ أَفْسَدْتَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِكَ ، رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا ، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا ، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا ، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو ، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی ، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا ؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا ، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 538
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطہارة 85 ( 116 ) ، ( تحفة الأشراف : 17677 ) ( صحیح ) »